جبری گمشدہ افراد اور ان پر گزرنے والی قیامتیں جیتے جاگتے لوگوں کی وہ نشانیاں ہیں جو کسی ارباب اختیار کے دل میں کوئی کسک تو پیدا نہیں کرتیں ہاں ان کے ماتھے پر بل ضرور لے آتی ہیں۔میری کوتا نظر میں سب سے بڑا گناہ اور جرم اس قوم کا یہ ہے کہ اس نے اپنے ہی مسلمان بہنوں اور بھائیوں کی عزت وآبرو ،دین و ایمان کے سودے کئے۔عزیز بہن ڈاکٹر عافیہ صدیقی سمیت بے شمار دین دار،پڑھے لکھے تعمیری سوچ رکھنے والے شہریوں کو کیڑے مکوڑوں کی طرح پکڑ پکڑ کر امریکہ کے حوالے کیا اور اس پر ڈالر کماتے ہوئے فخر محسوس کیا گیا۔غیروں کے ایماء پر معزز شہریوں کو اغوا و جبری گمشدہ کر کے زیر زمین ٹارچر سیلوں میں گم کر دیا! افسوس صد افسوس :'' ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگِ مفاجات!'' اِس کا حل اور کفارہ شاید صرف خونی انقلاب ہی پیش کر سکے...... !!
ان کہے ان دیکھے قیدوبند ،ظلم و جبر،عقوبت خانوں اور جیلوں کی کہانیاں وہ سیلابی ریلے ہیں جو عرصہ دراز سے زیر زمیں بہہ رہے ہیںاور جس کے تدارک اور ازالے کے لئے دنیا کی کوئی طاقت یا تنظیم حرکت میں نہیں آئی۔نہ حکومت نے ریلیف کیمپ لگائے نہ فنڈ قائم ہوا اور نہ ہی کبھی ایمرجنسی احکام جاری ہوئے۔سیلاب کیا آگئے،طوفان نوح آگیا۔پورے پاکستان بے بس حسرت و یاس غم وحزن و ملال کی تصویر بن گیا..... کیوں نہیں کہا تھا انصاف اس سرزمین پر کیوں نہ دیا تھا حق مظلوم کو اب تو اللہ کے عذاب نے اس ملک و ملت کو اچانک آلیا تھا...... سیلاب، جرائم،لاقانونیت ،دہشت گردی ،سیاسی رسہ کشی ،حکومتی نام و نمود اور نفسانفسی کی فضا میں ہمارے زِیر زمین گمشدہ پیاروں کی فریادیں اورچیخیں کس نے سنی ہیں...... !! یہ کوئی نہیں جانتا کہ شاید یہ سب عذاب انہیں پیاروں پرہونے والے ظلم کے نتیجہ میں اللہ پاک نے نازل فرمائے ہیں۔
میں پھر اپنے اوپر ترس کھا رہی ہوں اور آنسو بہا رہی ہوں۔اے اللہ تیری ہی بارگاہ میں شکوہ کرتی ہوں اپنی بے بسی اور مظلومیت کا....... اپنے غم اور مصیبت کا! یااللہ تو رحمان و رحیم ہے،اپنے مظلوم بندوں کے ساتھ ہے،تو ہم پر رحم فرما۔تو ہمارے پیاروں کو پلک جھپکنے میں ہم سے ملا دے،آن واحد میں اُن کو ظالموں کی قید سے چھڑا دے۔ توہم کو پیغمبری آزمائش سے نکال اور اس میں سرخرو فرما۔آمین،ثمہ آمین
